Scene From The Novel

” شاہویر سر! یہ آفس ہے، کچھ تو خیال کریں! ” جیا گڑگڑائی تھی۔ ” اپنی منکوحہ سے دنیا کے کسی بھی کونے، کسی بھی جگہ میں اپنا حق وصول کر سکتا ہوں! ” وہ اس کی گہرائیوں میں اترتا مخمور ہوا! ” شاہویر سر، کوئی آجائے گا، کسی کو ہمارے نکاح کے بارے میں معلوم نہیں!” جیا بری طرح خوفزدہ تھی۔ کچھ مہینے پہلے وہ اپنی گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے شاہویر خانزادہ کے آفس میں نوکری کرنے آئی تھی، لیکن اس کا چاند جیسا چہرہ اور حسن و دلکشی سے بھرپور سراپا شاہویر کو عاشق کر گیا! باوجود اس کے کہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا، اس نے جیا سے خفیہ نکاح کر لیا۔۔۔ وہ ہر جگہ اس پر اپنی بے تابیاں لٹاتا، پر جیا کے ہوش اڑ گئے جب وہ پریگننٹ ہوئی! ” کیا ضرورت ہے اپنا گھر خراب کرنے کی؟؟” شاہویر خانزادہ کی بات پر وہ ناراض ہوتی ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔

وہ تیز دھوپ میں کھڑی اندر جانے کاانتظار کر رہی تھی، اس کی گوری رنگت جھلس رہی تھی اور چہرے کی سفیدی سرخی میں بدل گئی تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد چوکیدار نے اسے اندر جانے کا کہا تو اس نے خدا کا شکر ادا کرتے قدم آگے بڑھائے تھے۔ پر جیسے ہی انٹرویو کے لیے آفس والے روم میں قدم رکھا تو تیز ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اس کا استقبال کیا تھا، چہرے پر تازگی چھاگئی۔ انٹرویو لیتا شاہویر خانزادہ اس لڑکی کو دیکھ کر چونک گیا۔۔۔۔ انٹرویو لیتا شاہویر خانزادہ اس لڑکی کو دیکھ کر چونک کیا تھا، پرانے بوسیدہ کپڑے تھے لیکن حسن ایسے چھلک رہا تھا جیسے کسی گدڑی میں لعل چھپا ہو۔ وہ اسے دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا۔ انٹرویو لینے والے دو لوگ اور بھی موجود تھے جو کے مینیجر اور ڈائریکٹر تھے، یہ بہت بڑی پوسٹ تھی۔ تنخواہ بھی اچھی خاصی تھی، اس لیے کئی امیدوار آس لگا کر یہاں انٹرویو دینے آئے تھے، ان میں جیا احمد بھی شامل تھی۔ جیا گھبراتی ہوئی ان کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔

لیکن زیادہ گھبراہٹ اسے شاہویر کی نظروں سے ہو رہی تھی جو مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا، وہ دل میں سوچنے لگی کہ ” یہ تو بہت ہی چھچھورا ٹائپ انسان ہے، نظریں ہٹانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔” وہ اچھی طرح اپنے حسن کی دلکشی سے واقف تھی، یہ خوبصورتی اسے اپنی امی سے ورثے میں ملی تھی۔ غریب گھرانوں میں بھلا کہاں خوبصورتی کی قدر ہوتی ہے، تبھی تو وہ سڑکوں پر دھکے کھاتی خوار پھر رہی تھی۔ وہ کسی بھی میک اپ سے بے نیاز تھی، اسے در حقیقت کسی میک اپ کی ضرورت بھی نہیں تھی۔۔۔ اب سامنے بیٹھے دونوں شخص اس سے سوال جواب کر رہے تھے، تبھی مینجر کہنے لگا: ” دیکھیں محترمہ ! لگتا ہے کہ آپ اخبار میں اشتہار دیکھ کر نوکری کا انٹرویو دینے چلی آئی ہیں، لیکن آپ نے یہ پڑھنے کی زحمت نہیں کی کہ اس جاب کے لیے ماسٹرز ڈگری ہولڈر کی ضرورت ہے، گریجویشن نہیں، آپ کی اس معمولی سی تعلیم پر ہم اتنی بڑی پوسٹ آپ کو نہیں دے سکتے۔۔۔”

مینیجر کی بات سن کر تو جیا کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔۔۔ تبھی وہ کپکپاتے لہجے میں کہنے لگی ” اوہ۔ آئی ایم سوری سر دراصل مجھے نوکری کی بہت سخت ضرورت تھی اسی لیے میں اپنی قسمت آزمانے چلی آئی۔۔۔” ایک دم ہی اس کی آنکھوں میں نمی بھر آئی تھی، تبھی وہ اپنی فائل سمیٹتی ہوئی اٹھنے لگی، لیکن اچانک شاہویر خانزادہ نے ہاتھ اٹھا کر مینیجر اور ڈائریکٹر کی طرف دیکھا تھا ” اگر انہیں اس نوکری کی ضرورت ہے تو انہیں ہی اپاسٹ کر لیں۔۔۔” شاہویر خانزادہ اس کمپنی کا باس تھا اور باس کے سامنے بولنے کی نہ مینیجر کی ہمت تھی اور نہ ہی ڈائریکٹر کی، اس لیے انہوں نے خاموشی اختیار کی اور پھر مینیجر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔”مبارک ہو مس جیا احمد! آپ کو یہ نوکری مل گئی ہے۔ انہوں نے اسے اسی وقت خوشخبری سنا دی تھی۔۔۔”حج۔ جی۔۔۔ سر! مم۔۔۔ میں سمجھی نہیں! ” خوشی کے مارے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا، تبھی مینیجر مسکراتے ہوئے کہنے لگا ” دراصل یہ ہمارے اونر ہیں، اس کمپنی کے مالک، انہوں نے آپ کو سلیکٹ کر لیا ہے اس جاب کے لیے۔۔۔۔”

جیا کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا، لیکن ایک بات تھی کہ اس کا اپنا دل دھڑک رہا تھا، مسلسل شاہویر خانزادہ کی نگاہیں وہ اپنے وجود پر محسوس کر رہی تھی۔ شاید وہ اس میں دلچسپی لے رہا تھا یا کوئی اور بات تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آئی لیکن اتنا یقین ہو گیا تھا کہ شاہویر خانزادہ نے کسی خاص مقصد کے لیے اسے یہاں جاب دی ہے۔ ” تھینک یو سر! تھینک یو سو مچھ! “وہ اس کی ممنون تھی شاہویر خانزادہ نے دلچسپ مسکراہٹ سے اثبات میں سر ہلا تھا۔ یہ لڑکی اس کے دل کی دھڑکنوں کے تار چھیڑ گئی تھی، ” بہت جلد تم سے دوبارہ ملاقات ہوگی بیوٹی فل گرل” وہ دل ہی دل میں کہتا فائل پر جھک گیا تھا۔ ” شاہویر بیٹا! بہت لیٹ آنے لگے ہو۔۔۔۔” اس نے اماں جان کو اپنے انتظار میں جاگتا دیکھا تو پریشان ہو گیا۔۔۔ یعنی آج بھی اسکی بیوی گھر سے باہر تھی۔۔۔

Story From The Novel

“Shahveer sir, this is an office. Please have some consideration!” Shahveer replied possessively that he could claim his rights over his wife anywhere in the world. Terrified that someone might discover their secret marriage, Jiya reminded him that no one at the office knew they were married. A few months earlier, Jiya had joined Shahveer KhanZada’s company because of financial difficulties at home. Her natural beauty had immediately caught Shahveer’s attention, and despite already being married, he secretly married Jiya.

However, when Jiya discovered she was pregnant, she became frightened and questioned why she should destroy his existing family. Shahveer’s response only deepened the conflict between them.Their story had begun on the day Jiya arrived for her job interview. She had stood outside in the scorching heat for nearly half an hour before finally being allowed inside.

The cool air of the office refreshed her, but the moment she entered the interview room, Shahveer was stunned by her appearance. Despite her old, worn-out clothes, her natural beauty immediately drew his attention. The manager and director questioned her, but the manager soon pointed out that the position required a master’s degree while Jiya only had a bachelor’s degree. Disappointed, Jiya apologized and admitted that she desperately needed a job. As she gathered her documents to leave, Shahveer suddenly stopped them and ordered them to hire her. Since he was the owner of the company, nobody dared to question his decision.

The manager congratulated Jiya, explaining that the company’s owner himself had selected her.Overwhelmed with happiness, Jiya thanked Shahveer repeatedly, though she could not ignore the way he continued watching her. She sensed that he had hired her for a particular reason, but she could not understand what it was.

Shahveer, meanwhile, was already captivated by her and silently looked forward to seeing her again. Later that night, when he returned home, he found his mother waiting for him. She complained that he had started coming home very late, and Shahveer immediately became uneasy. He knew what her words meant: once again, his first wife was not at home. And somewhere between his secret marriage, his growing obsession with Jiya, and his already troubled household, a complicated storm was beginning to take shape.Download Novel By Clicking Download Button Below

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *