
Scene From The Novel
” کس سے پوچھ کر نوکری کے انٹرویو کے لیے جارہی ہو ؟” دلاور شاہ اس کی تیاری دیکھ غرایا وہ ملک کا مشہور بزنس مین تھا اور اس کی بیوی دو ٹکے کی نوکری کے لیے دوسروں کے دفتر جارہی تھی ” مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔۔ میں ضرور جاؤں گی ” وہ بولی تو دلاور شاہ ٹھٹھکا۔۔ اس کے معصوم چہرے کو دیکھا، مرنے سے پہلے اس نے اپنی ماں کی خوشی کے لیے ان کی پسند کی لڑکی سے شادی کی تھی جو اس کی ماں کی کیئر ٹیکر تھی۔ اس کی ماں نے مرنے سے پہلے وعدہ کیا تھا وہ اسے طلاق نہیں دے گا اپنے گھر اور کمرے سے نہیں نکالے گا۔ دلاور شاہ نے وعدہ تو پورا کیا تھا لیکن پلٹ کر اس معصوم کی ضرورت تک نہیں پوچھی تھی۔ ” پیسے مل جائیں گے تمہیں چپ چاپ گھر بیٹھو۔۔۔۔” وہ سختی سے بولا پر اگلے لمحے اس کی بات سنتے دماغ گھوم گیا ” مجھے آپ کی بھیک کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں ضرور نوکری کروں گی۔۔
” وہ کہتے کمرے سے نکلنے لگی جب دلاور نے۔۔۔” آپ کو کچھ چاہیے؟” اس نے دلاور سے عام سے لہجے میں پوچھا۔ اس کا اتنا عام سا لہجہ دیکھ کر دلاور نے غصے سے مٹھیاں بھیچ لیں۔ وہ آگے بڑھا، ” فون میرے ہاتھ میں دو! ” اس نے کڑک دار آواز میں کہا۔ “کیوں؟” اس ایک سوال نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ دلاور نے اس کا موبائل پیچھے لے جاتے ہوئے ہاتھ کو زور سے دبوچ لیا اور اس کے ہاتھ سے زبر دستی موبائل چھین لیا! ” رات کے بجے کس سے محبت کا اظہار کر رہی تھی؟ کس سے باتیں ہو رہی تھیں؟ ” دلاور داڑھا۔ “آپ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں؟” نین تارا نے غصے سے پوچھا۔دلاور اسے خونخوار نظروں سے گھورنے لگا۔
“میرا فون واپس کریں! میں کسی کو اپنے کردار کی وضاحت نہیں دوں گی۔۔۔۔ اور آپ کو تو ہر گز بھی نہیں! جس کے اپنے کردار میں کھوٹ ہونا، وہ دوسروں پر سوال نہیں اٹھا سکتا! ” نین تارا کےاس طنز پر دلاور مزید غصے سے پاگل ہونے لگا۔۔۔۔۔ وہ نین تارا کا بازو پکڑنے لگا، پر اسی لمحے نین تارا نے اپنا باز و پیچھے کرتے ہوئے دلاور کے ہاتھ کو جھٹک دیا، “خبر دار! اگر اب میرا باز و د بوچا۔۔۔۔ سچ چبھ رہا ہے؟ راتوں کو نامحرموں سے بات کرنے کی عادت آپ کی ہے، میری نہیں! ” نین تارا کی آواز بھی بلند ہوئی۔ “شٹ اپ!ایک لفظ مزید منہ سے نکلانا نین تارا، تو تمہارا منہ توڑ دوں گا میں۔۔۔۔فون کا پاسورڈ بتاؤ! ” دلاور نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔۔
نین تارا خاموشی سے اسے گھورتی رہی۔ ” میں نے کہا پاسورڈ بتاؤ! ” دلاور نے زور دیا؟ ” نہیں بتاؤں گی! کیا کر لیں گے؟ ماریں گے؟ مار لیں۔۔۔۔ کر لیں اپنی خواہش پوری! ” وہ رونے لگی۔ ” میرے سامنے ڈرامے بند کرو! میں نے کہا مجھے پاسورڈ بتاؤ۔۔۔۔ اگر ایسا کچھ ہے ہی نہیں تو پاسورڈ بتانے میں جان کیوں نکل رہی ہے؟؟؟ ” دلاور نے غصے سے پوچھا۔ نین تارا دن بہ دن بہت ہٹ دھرم ہوتی جارہی تھی، “ہاں! ایسا کچھ ہے۔۔۔۔میں خود بتادیتی ہوں کہ ایسا کچھ ہے! کوئی لڑکا ہے جس سے میں بات کر رہی ہوں، ہوگئی تسلی؟ اب میرا فون واپس کریں اور جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔اور اگر بیوی کا غیر محرم سے بات کرنا اتنا برا لگتا ہے نا، تو میرے پاس تو آپشن نہیں تھا دلاور، پر آپ کے پاس تو آپشن ہے نا طلاق کا۔۔۔ طلاق دے دیںمجھے! ” نین تارا کی بات سنتے ہی دلاور کے دماغ کی رگیں پھٹنے لگی۔
اس نے ہاتھ بلند کیا، لیکن ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ نین تارا آنکھیں پھیلائے دلاور کے بلند ہوتے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔ ” نین تار!! میں لاسٹ ٹائم کہہ رہا ہوں، مجھے فون کا پاسورڈ بتاؤ۔۔۔۔” دلاور نے انتہائی سرد لہجے میں کہا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ نین تارا دلاور سے ڈر گئی تھی۔ کوئی بعید نہ تھی کہ دلاور اس پر ہاتھ اٹھا دیتا۔۔۔۔ وہ جسمانی طور پر دلاور سے کمزور تھی اور اس سے لڑ نہیں سکتی تھی۔ ” ڈبل ٹو ڈبل فائیو” اس نے کپکپاتے لہجے میں دلاور کو فون کا پاسورڈ بتایا۔ دلاور نے فون کا پاسورڈ کھولا، کال لاگ کھولی تو سب سے اوپر ہی ایک انجان نمبر سے کال موجود تھی۔ دلاور نے اس نمبر پر کال ملائی،اسپیکر آن کیا اور نین تارا کو گھورنے لگا۔ تین چار بیل کے بعد کال اٹھالی گئی۔۔۔۔
“ہیلو! کیا مسئلہ ہے آپی؟ میں تو آپ کو اپنا نیا نمبر دے کر پچھتا رہا ہوں۔۔۔۔۔کل ٹھیک ہو جائے گا نا امی کا فون پھر کر لیجیے گا گھنٹوں گھنٹوں امی سے باتیں! ” اس کا بھائی اکتائی ہوئی آواز میں بولا، جب پیچھے سے نین تارا کی ماں کی آواز آئی۔ارے کمبخت! دو ادھر فون۔۔۔ میری بیٹی سارا دن مصروف ہوتی ہے، مجھے بات کرنے دو!” یہ کہتے ہوئے نین تارا کی ماں نے اپنے بیٹے کے ہاتھ سے فون چھین لیا، “ہاں نین! کیا بات ہے بیٹا؟ اگر اتنی یاد آ رہی تھی تو آ جاتی نا۔۔۔۔
بلا تور ہی تھی میں، یا دلاور نے اجازت نہیں دی؟ ” دلاور کے سر پر جیسے گھڑوں پانی گر گیا تھا! نین تارا ز خمی نظروں سے دلاور کو گھور رہی تھی۔۔۔۔ دلاور کے حلق میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔ اس کے چہرے کی تنی ہوئی رگیں فوراً ڈھیلی پڑ گئیں اور لب آپس میں سختی سے بھینج گئے۔ وہ نین تارا کو دیکھنے لگا۔ فون کٹ چکا تھا۔ نین تارا نے ایک نفرت بھری نگاہ دلاور پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ دلاور نے سختی سے فون مٹھی میں دبوچتے اپنے سر پر مارا، “شٹ! کیا۔۔۔۔کیا چل رہا ہے میرے دماغ میں؟ کیا ہو گیا ہے مجھے؟” وہ خود کو کوسنے لگا۔۔۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر اس نے دونوں ہاتھوں میں سر گرا لیا، ” میں شکی ہوگیا؟” اس نے خود سے سوال کیا۔ اس میں بھی نین تارا کا ہی قصور ہے! جب کمرہ چھوڑ کر جائے گی اور پورا وقت کمرے سے غائبرہے گی، تو بندہ اور کیا سوچے گا؟ اس نے خود کو کلیئر کرنا چاہا پر ناکام رہا۔ کچھ دیر بعد وہ گھر کے کمروں میں نین تارا کو تلاش کرنے لگا، پر گھر میں اسے نین تارا کہیں نہ ملی۔ وہ باہر لان کی طرف نکلہ وہ لان میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔
آگے کا پورا حصہ گاڑیوں سے بھرا تھا اور سوئمنگ پول ایریا میں بھی نین تارا نہیں تھی۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ بیک یارڈ ( پچھلے صحن ) میں گیا؛ بیک یارڈ کا حصہ چھوٹا تھا۔ وہاں پہنچا تو اسے نین تارا ایک کرسی پر بیٹھی، گھٹنوں میں سر دیے نظر آئی۔ اس کی ہچکیوں کی آواز دلاور کو صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ مزید شرمندہ ہونے لگا۔ بھیجے ہوئے اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلا؟ مشکل تھا، پر ناممکن نہیں۔۔۔۔غلطی اس نے کی تھی تو معافی مانگنا تو ضروری تھی! وہ نین تارا کی جانب بڑھا۔ اس کی موجودگی محسوس کرنے کے باوجود نین تارا نے سر نہ اٹھایا۔۔۔۔۔
Story From The Novel
Hearing Naintara’s sobs, Dilawar stood there silently for a few moments. For the first time, he realized how deeply his suspicion and harsh behavior had hurt her. He slowly sat down in front of her and said softly, “Naintara…” but she refused to look at him.
After a moment, he continued, “I’m sorry. I shouldn’t have doubted you or taken your phone from you like that. I shouldn’t have spoken to you so harshly.” Naintara wiped her tears but remained silent.Dilawar then lowered his pride and admitted, “I was wrong to stop you from working. You have every right to decide what you want to do. Instead of understanding why you needed money, I kept treating you as if you were dependent on me.” Naintara finally looked at him with tearful eyes and replied, “I never needed your money, Dilawar.
7 I needed your respect. You never even tried to find out whether I was happy in this house or not.” Her words left him speechless, making him realize how lonely she had felt despite being his wife.For once, Dilawar had no argument or command to give. He quietly said, “I won’t stop you from working. If that is what you want, you can go. And if my behavior ever made you feel alone or unwanted, I’ll try to change that.” Naintara remained quiet, still hurt by everything that had happened, but his words surprised her. Dilawar knew that one apology could not erase all the pain he had caused, yet for the first time, he decided that he needed to earn her trust instead of demanding it.Download Novel By Clicking Download Buttom Below