
Scene From The Novel
“دوسری شادی کرنی ہے تو کریں پر مجھے طلاق دیں۔ ” وہ سب کے سامنے بولی تھی کہ طلاق کا نام سن کر اس کا شوہر رک جائے گا۔ اس نے تین سال اپنے شوہر کے ساتھ غربت میں گزار کر اپنا زیور بیچ کر اسے کاروبار کروایا تھا اب وہ امیر ہوا تو دوسری عورت بھا گئی پر اس کے پیروں تلے زمین تب نکلی جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ وہ اپنی دو سالہ بیٹی کو لیے باپ کے گھر آگئی۔کچھ دن بعد وہ بوجھ لگنے لگی تو اس نے خانزادہ انٹرپرائزز میں نوکری شروع کی۔ جب پورے ماہ بعد عالیان خانزادہ ضروری میٹنگ کے لیے آفس آیا، سب اس کے نام سے بھی ڈرتے تھے ۔میٹنگ کی ضروری فائل اس کے پاس تھی پر بیٹی کی اچانک طبیعت بگڑنے پر وہ غلطی سے فائل سمیت ہسپتال چلی گئی۔
“اس غیر زمہ دار لڑکی کی وجہ سے میرا اتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔۔۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔ آفس بلاؤ ابھی! ” وہ دھاڑا۔۔۔ “دوسری شادی کرنی ہے تو شوق سے کریں پر پہلے مجھے طلاق دیں” سنیناں کی آواز ڈرائنگ روم کی چار دیواری میں گونجی تھی۔ اس کی سانسیں پھول رہی تھیں اور آنکھوں میں ضبط کیے ہوئے آنسوؤں کا سمندر تھا مگر اس کے باوجود اس کے لہجے میں بلا کا یقین تھا۔ یہ وہ یقین تھا جو اس نے طلحہ کے ساتھ گزرے تین انتہائی کٹھن اور مفلسی سے بھرپور سالوں سے کمایا تھا۔ اسے پورا گمان تھا کہ طلاق کا نام سنتے ہی طلحہ کے قدم لڑکھڑا جائیں گے اس کا غرور خاک میں مل جائے گا اور وہ ماضی کی قربانیوں کو یاد کر کے خاموش ہو جائے گا۔ لیکن سامنے صوفے پر بیٹھے طلحہ کے چہرے پر پشیمانی کا ایک احساس تک نہ ابھرا۔ اس نے انتہائی لاپرواہی سے اپنے مہنگے سوٹ کا کوٹ درست کیا اور ایک سرد مسکراہٹ کے ساتھ سنیناں کی طرف دیکھا۔
“طلاق؟” طلحہ کا لہجہ طنز سے بھرا ہوا تھا “تم واقعی یہ سمجھتی ہو سنیناں کہ اس لفظ سے مجھے ڈرا لو گی؟ “طلحہ ہوش کے ناخن لو” سنیناں کی آواز لرز گئی۔ وہ قدم آگے بڑھاتے ہوئے بولی “تم کیسے بھول سکتے ہو کہ ہم نے یہ دن کیسے دیکھے ہیں؟ جب تمہارے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک روپیہ تک نہیں تھا جب تم راتوں کو سر پکڑ کر بیٹھتے تھے تب میں نے اپنے باپ کے دیے ہوئے سونے کے تمام زیورات تمھاری ہتھیلی پر رکھ دیے تھے۔ میں نے تین سال ایک ایک پیسے کی محتاجی میں گزارے پرانے کپڑے پہنے کبھی تم سے کوئی فرمائش نہیں کی۔ اور آج… آج جب اللہ نے تمھاری محنت اور میری قربانیوں کا پھل دیا ہے تمھاری گاڑیاں اور بنگلے بن گئے ہیں تو تمہیں میں نچلے درجے کی لگنے لگی ہوں؟ دوسری عورت تمھاری نظروں میں جچنے لگی ہے؟” چائے کا گھونٹ بھرتی ہوئی طلحہ کی ماں نے پیالی پرچ میں رکھی اور نخوت سے بولی “زبان سنبھال کر بات کرو سنیناں میرے بیٹے نے رات دن ایک کر کے یہ نام اور مقام بنایا ہے۔ اب وہ ایک بہت بڑا بزنس مین ہے۔ اس کی ایک سوسائٹی ہے اس کا ایک معیار ہے۔
تم تو گھر سے باہر قدم بھی نہیں نکالتیں تم میں وہ ماڈرن کلاس ہی نہیں ہے جو طلحہ کے ساتھ کسی پارٹی میں کھڑی ہو سکے۔ اگر وہ عاشی کو اپنی زندگی میں لا رہا ہے تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمھاری ذمہ داری سے وہ پیچھے نہیں ہٹ رہا تمہیں بھی اسی گھر میں رکھ رہا ہے۔””خالہ جان ذمہ داری؟” سنیناں نے تڑپ کر اپنی ساس کی طرف دیکھا “کیا عزت اور سچی محبت کا نعم البدل صرف روٹی کپڑا ہوتا ہے؟ میں نے اس گھر کی اینٹوں کو اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ میں اس سوتن کے ساتھ ایک ہی چھت تلے گھٹ گھٹ کر نہیں جی سکتی۔ اگر طلحہ کو اپنے معیار کی عورت چاہیے تو پہلے مجھے اس بندھن سے آزاد کرے” طلحہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں رقم اور طاقت کا گھمنڈ صاف جھلک رہا تھا۔ “تم نے مجھ سے طلاق مانگی ہے نا سنیناں؟” طلحہ نے سنجیدگی سے سنیناں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا “تمہیں لگتا ہے کہ تمھارے ان چار تولے سونے کے زیورات کے احسانوں تلے میں عمر بھر دبا رہوں گا۔۔ ۔ ۔۔۔
Story From The Novel
Saneena had spent three difficult years supporting Talha through poverty, even selling her jewelry to help him establish his business. But once he became wealthy, he wanted to marry another woman. Believing that the threat of divorce would make him realize her worth, Saneena asked him to divorce her if he wanted a second marriage. Instead, Talha coldly divorced her, leaving Saneena devastated. She returned to her father’s home with her two-year-old daughter, Ayat, but soon began feeling like a burden there as well.Determined to provide for her daughter without depending on anyone, Saneena found a job at the prestigious Khanzada Enterprises.
On one particularly important day, she was entrusted with a crucial file needed for a major deal with German clients. Just as she was about to deliver it, she received an emergency call from the daycare informing her that Ayat had developed a dangerously high fever and was being taken to the hospital. Panicked, Saneena rushed out without realizing that she had accidentally taken the important file with her.Meanwhile, Aalyan Khanzada was waiting in the conference room for the same file. When he learned that Saneena had taken it and disappeared without informing anyone, he was furious.
The German clients left the meeting disappointed, causing the company a major loss. Aalyan, known for his strict and intimidating personality, ordered everyone to call Saneena immediately, determined to hold the irresponsible employee accountable—completely unaware that she had rushed to the hospital to save her little daughter.Download Novel By Clicking Download Button Below