
Scene From The Novel
“تم نے میرے بچوں کی پہچان چھپائی مجھ سے کیوں۔۔؟” عدیل کی آواز راہداری میں ایک گرجدار دھاڑ کی طرح گونجی۔ اس کے الفاظ میں غصہ بھی تھا اور ایک چھینی ہوئی ملکیت کا دعویٰ بھی۔۔۔۔عروبا کی آنکھوں میں کوئی خوف نہیں تھا بلکہ ایک سرد اور کاٹ دار چمک تھی۔ “کیوں…؟” عروبا کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ اور زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ “تمہاری دوسری بیوی نے یہ خوشی نہیں دی تمہیں؟ وہ تمہاری محبت تمہارا وہ جنون جس کے لیے تم نے میرا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا… کیا اس نے تمہیں باپ بننے کا شرف نہیں بخشا؟” عدیل جیسے ایک دم لاجواب ہو گیا۔ رابعہ کا ذکر اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ وہ شرمندگی اور خفت سے نظریں چرا گیا۔ عروبا کی آنکھوں میں ماضی کے دکھوں کے آنسو تیرنے لگے مگر اس نے انہیں گرنے نہیں دیا۔ وہ ایک قدم آگے بڑھی اور چبا چبا کر بولی
“جانتے ہو عدیل… اس منحوس رات جب تم نے مجھے دھکے دے کر گھر سے نکالا تھا میں تمہیں یہی سرپرائز دینے والی تھی۔ میں تمہیں بتانے والی تھی کہ ہم ماں باپ بننے والے ہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ خبر سن کر شاید تم واپس میری طرف لوٹ آؤ گے… لیکن تم نے تو میری ہی بہترین دوست کو دلہن بنا کر مجھے وہ سرپرائز دیا کہ میری پوری کائنات ہی اجڑ گئی۔ تم نے مجھے بولنے تک کا موقع نہیں دیا۔” وہ روتے ہوئے طنزیہ ہنسی۔ اس کی ہنسی میں وہ کرب تھا جس نے عدیل کے وجود کو اندر تک چیر کر رکھ دیا۔عدیل کے ہونٹ کانپے۔ “عروبا… مجھے… مجھے نہیں معلوم تھا۔ میں…” اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔
اس وقت عشق کا اور رابعہ کی خوبصورتی کا وہ بھوت اس پر سوار تھا کہ اس نے عروبا کی سسکیوں کو پیروں تلے روند دیا تھا۔ اور آج… آج وہ برباد خالی ہاتھ اور ایک ناکام انسان کھڑا تھا جبکہ عروبا اسی مقام پر ایک انتہائی مضبوط خوبصورت اور باوقار ماں بن کر آباد تھی۔ “بہتر ہوگا…” عروبا نے اپنی انگلی اٹھا کر سختی سے اسے وارننگ دی “مجھ سے اور میرے بچوں سے دور رہو۔ تمہارا ان پر کوئی حق نہیں ہے۔ تم نے اس دن مجھے نہیں اپنے بچوں کو بھی گھر سے نکالا تھا۔ اب ہم تمہارے لیے مر چکے ہیں۔” عدیل کے اندر کی مردانگی اور انا کو اس کھری سچائی نے بری طرح مجروح کیا۔”وہ میرے بچے ہیں عروبا میرا خون ہیں” عدیل پاگلوں کی طرح آگے بڑھا۔ “نہیں ہیں وہ تمہارے” عروبا نفرت سے چلائی
۔ “اور سن لو میری بات… میں نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کر دیا ہے اور پیپرز تمہیں بہت جلد مل جائیں گے۔ اور ہماری خلع ہوتے ہی میں دوسری شادی کرنے والی ہوں تاکہ ایک اچھا باپ دے سکوں اپنے بچوں کو۔۔۔ جو کم از کم تمہارے جیسا دھوکے باز اور ہوس پرست نہ ہو۔” یہ الفاظ عدیل کے لیے کسی بم دھماکے سے کم نہیں کسی اور کو باپ بلائیں گے اس کے بچے۔۔۔؟ اس کی برداشت جواب دے گئی۔”رہیں گے تو وہ میرا ہی خون” عدیل کے حواس پر دیوانگی چھا گئی۔ “ایک بار غلطی کر چکا ہوں تمہیں اور اپنے گھر کو کھو کر… اب نہیں کروں گا۔ تم کہیں نہیں جاؤ گی اور نہ میرے بچے کسی اور کو باپ کہے گا” یہ کہتے ہی عدیل نے انتہائی سختی سے عروبا کی کلائی تھام لی۔ اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ عروبا کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ بچے اپنی ماں کو اس طرح ایک اجنبی کے ہاتھوں کھنچتا دیکھ کر زور زور سے رونے لگے۔
“چھوڑو مجھے عدیل پاگل ہو گئے ہو تم… چھوڑو میرا ہاتھ” عروبا پوری طاقت سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی مگر عدیل اسے زبردستی راہداری سے باہر پارکنگ اور اپنی گاڑی کی طرف کھینچتے ہوئے
Story From The Novel
Arooba’s scream echoed through the corridor as Adeel dragged her toward the parking area, refusing to listen to her pleas. The children began crying loudly after seeing their mother being forcefully taken away. Just as Adeel was about to reach his car, a stern voice stopped him: “Let go of her!” Arooba immediately pulled her children closer, while Adeel finally loosened his grip on her wrist.
The man confronted Adeel, warning him that Arooba was not his prisoner and that he had no right to forcefully take her anywhere. Adeel angrily insisted that the children were his and that he had every right to them. But Arooba stood her ground and reminded him that the day he had thrown her out of his life, he had also abandoned his responsibility as a father. She refused to let him decide her children’s future after years of pain and betrayal.
Adeel stood there helplessly as Arooba walked away with her children. For the first time, he realized that being a father was not merely about sharing blood; it was about love, responsibility, and standing by your children. Meanwhile, Arooba had made up her mind that she would protect her children from further hurt and would fight for their future, even if it meant facing Adeel in court. Download Novel By Clicking Download Button Below