
Scene From The Novel
“سر جس عورت کی آپ نے مدد کی تھی اس کے بچے تو ڈیلیور ہوگئے ہیں لیکن وہ رورہی ہے بچے قبول کرنے سے انکاری ہے” سکندر شاہ کا سیکرٹری بولا تو وہ سختی سے آنکھیں میچ گیا۔ “وہ لڑکی کہیں۔ جانی نہیں چاہیے ۔اس کے بچے اور اس لڑکی کو میرے فارم ہاؤس پہنچا دو اور ۔۔۔ وہ کہتے کہتے رکا۔۔ “قاضی کا بندوبست کرو ۔۔میں اس سے نکاح کروں گا” ا سکی بات پر مینیجر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ ایک معمولی لڑکی جسے ہسپتال میں تڑپتے دیکھ اس نے ڈونیشن دی تھی وہ اچانک اس لڑکی سے شادی کرنے کا بول رہا تھا پر سیکرٹری نہیں جانتا تھا وہ لڑکی وہی باپردہ ملازمہ تھی جس کے ساتھ سکندر شاہ نے نشے میں ظلم دیا تھا اور جو بچے کل پیدا ہوئے تھے وہ بھی سکندر شاہ کے ہی تھے”سر ابھی ہسپتال سے فون آیا ہے۔۔وہ لڑکی بچے چھوڑ کر بھاگ گئی ہے” سیکرٹری نے پریشانی سے کہا تو۔۔۔۔۔
“مبارک ہو اماں جی اللہ پاک نے آپ کو جڑواں بچوں کی نعمت سے نوازا ہے… ایک بیٹا اور ایک بیٹی آپریشن مکمل طور پر کامیاب رہا اور ماں اور دونوں بچے بالکل خیریت سے ہیں۔”لیبر روم کی ریڈ لائٹ بجھتے ہی لیڈی ڈاکٹر نے باہر آ کر مسکراتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی۔ رخسانہ بی بی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے اور انہوں نے فوراً سجدہِ شکر ادا کیا۔”یا اللہ تیرے ہزاروں احسان ہیں… تو نے میری بچی کی زندگی بچا لی” رخسانہ بی بی نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ کاؤنٹر کے پاس کھڑا سکندر کا سیکرٹری حماد فوراً آگے بڑھا۔ اس نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور ہسپتال انتظامیہ کے تمام کاغذی امور کی فیس اور مہنگی ادویات کے بل کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادا کر دیے۔ ہسپتال کا وہی کلرک جو کچھ دیر پہلے رخسانہ بی بی سے بدتمیزی کر رہا تھا اب حماد کے سامنے ہاتھ جوڑے مودبانہ انداز میں کھڑا تھا کیونکہ معاملہ شہر کے سب سے بااثر بزنس مین سکندر شاہ کا تھا۔
“سر تمام فارمیلیٹیز پوری ہو چکی ہیں زویا بی بی کو پرائیویٹ وارڈ میں شفٹ کیا جا رہا ہے اور بچوں کو این آئی سی یو کے آبزرویشن روم میں رکھا گیا ہے” حماد نے کوریڈور میں خاموشی سے کھڑے سکندر شاہ کے قریب آ کر انتہائی ادب سے اطلاع دی۔ سکندر نے محض اثبات میں سر ہلایا۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تھی مگر اس کے دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سا احساس انگڑائی لے رہا تھا۔ وہ ویسے تو ہسپتال کے کینسر وارڈ کے وزٹ کے لیے آیا تھا مگر اس ناگہانی واقعے اور زویا کی دردناک پکار نے اسے یہاں روک لیا تھا اور جب تک آپریشن مکمل نہیں ہوا وہ خود ہسپتال کے کوریڈور میں موجود رہا۔
“حماد بچے کہاں ہیں؟” سکندر نے اپنے کوٹ کے بٹن درست کرتے ہوئے اچانک پوچھا۔”سر بچوں کو این آئی سی یو کی نرسری میں شیشے کے پیچھے رکھا گیا ہے۔ آپ اگر دیکھنا چاہیں تو آئیں میں آپ کو راستہ دکھاتا ہوں” حماد نے اشارہ کیا۔ سکندر شاہ کے نپے تلے اور رعب دار قدم شیشے کی بڑی دیوار سے بنی نرسری کی طرف بڑھ گئے۔ وہاں چھوٹے چھوٹے انکیوبیٹرز میں نوزائیدہ بچے رکھے گئے تھے۔ سکندر نے شیشے کے قریب جا کر اندر دیکھا۔
وہاں ایک ساتھ دو چھوٹے سے وجود رکھے تھے جن کے ننھے ننھے ہاتھ پاؤں کپکپا رہے تھے۔ ان معصوم بچوں کو دیکھ کر سکندر کے سخت گیر اور روکھے چہرے پر پہلی بار ایک نرم اور شفقت بھری مسکراہٹ ابھری۔اسی اثناء میں نرسری کا دروازہ کھلا۔ رخسانہ بی بی نرس کی مدد سے ایک ویل چیئر پر زویا کو بٹھا کر اندر لا رہی تھیں تاکہ وہ ہوش میں آنے کے بعد اپنے بچوں کو ایک نظر دیکھ سکے۔ زویا کا چہرہ آپریشن اور درد کی شدت کی وجہ سے زرد پڑا ہوا تھا اس کے ہاتھ میں ڈرپ کی سوئی لگی تھی اور اس نے اپنے سر پر گہرے رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔۔”بیٹا تھوڑا حوصلہ رکھو بس ہم بچوں کے پاس ہی پہنچ گئے ہیں” رخسانہ بی بی نے زویا کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔سکندر نے آہٹ سن کر رخ موڑا۔ نرسری کے سفید بلبوں کی تیز روشنی براہِ راست زویا کے زرد اور معصوم چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔
Story From The Novel
This scene centers on a powerful businessman, Sikandar Shah, who unknowingly helps a woman named Zoya during a difficult childbirth. When he discovers that Zoya is actually his former veiled maid—the same woman involved in a traumatic incident from his past—he is shaken by the realization that the newborn twins are his children.
The revelation completely breaks his composed exterior.The emotional turning point comes when Zoya refuses to accept the children and disappears from the hospital. Sikandar, already overwhelmed by guilt and responsibility, orders his secretary to find her and bring her to his farmhouse, even deciding to marry her.
However, he does not yet know where she has gone, leaving him desperate to uncover the truth and protect his children.The story sets up a dramatic redemption arc involving guilt, hidden parentage, separation, and an unexpected marriage. Sikandar must now confront the consequences of his past actions while trying to find Zoya and earn her trust.Download Novel By Clicking Download Button Below