
Scene From The Novel
” معافی مانگو میری ماں سے ورنہ دفع ہو جاؤ میری زندگی سے۔۔۔ ” بھری محفل میں جہانزیب کی گرج پر علمہ کا چہرہ احساس ذلت سے سرخ ہوا۔ رات جہانزیب کی جنونی قربت نے اسے اسقدر بے حال کیا کہ وہ صبح تک برف کی ٹکور سے خود کو سہلاتی رہی۔ صبح لیٹ اٹھنے پر شہناز بیگم نے اس پر طعنوں کی برسات کردی تو وہ بھی اپنا ضبط کھو بیٹھی۔ ” مجھے معاف کر دیں آنٹی۔” وہ اپنی انا پر پاؤں رکھتے پتھر دل شہناز بیگم کے آگے ہاتھ جوڑ گئی۔اسکے اس انداز پر جہانزیب کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا مگر رات لمس کی تڑپ میں اسکی آنکھ کھلی تو علمیہ کمرے سے غائب تھی۔” آپ نے اپنی ماں کو خوش کرنے کیلئے اپنے بچے کی ماں کو دھتکارا۔ آپ میرے بچے کے باپ کہلانے لائق نہیں۔” وہ اسکا خط پڑھتے۔۔۔۔۔ “معافی مانگو میری ماں سے ورنہ دفع ہو جاؤ میری زندگی سے۔۔۔” بھری محفل میں جہانزیب کی گرجتی ہوئی آواز نے پورے کمرے کی فضا منجمد کر دی تھی۔ چند لمحے پہلے تک جہاں لوگوں کی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں وہاں اب ایسی خاموشی اتر آئی تھی جیسے کسی نے سب کی زبانیں بند کر دی ہوں۔ جہانزیب کی سرخ آنکھیں علمہ کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے پر غصے کی شدت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔ ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند تھیں۔ پیشانی پر ابھری ہوئی رگیں اس کے اندر بھڑکتے طوفان کی گواہی دے رہی تھیں۔۔۔۔۔
علمہ نے نظریں جھکا لیں۔ اس کا چہرہ احساس ذلتسے سرخ ہو چکا تھا۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ دل اس شدت سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیوں سے باہر آجائے گا۔ سامنے بیٹھی شہناز بیگم کے چہرے پر فتح کا اطمینان تھا۔ وہ اپنی بہو کو اسی حالت میں دیکھ کر بھی مطمئن دکھائی دے رہی تھیں۔ جہانزیب نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ “معافی مانگو” علمہ کے لب کانپے۔ ” میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔۔” یہ جواب جہانزیب کے غصے میں مزید آگ بھر گیا۔ میں نے تم سے صفائی نہیں مانگی۔ میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔ میری ماں سے معافی مانگو۔۔” کمرے میں موجود لوگوں نے نظریں چرالیں۔۔۔۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ جہانزیب کے سامنے علمہ کے حق میں ایک لفظ بول سکے۔ جہانزیب اپنی انا کے لیے مشہور تھا۔ اس کے نزدیک اپنی بات سے پیچھے ہٹنا شکست کے برابر تھا۔ گھر کے بڑے بھی اس کے غصے سے محتاط رہتے تھے۔ علمہ تو پھر اس کی بیوی تھی۔ وہ خاموش کھڑی رہی۔ جہانزیب نے سرد لہجے میں کہا۔ ” اگر آج تم نے میری ماں سے معافی نہیں مانگی تو تمہیں میری زندگی سے نکلنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا۔” یہ جملہ علمہ کے دل میں تیر کی طرح اترا۔ وہ چند لمحے جہانزیب کو دیکھتی رہی۔ اس شخص کو جس کے نام کے ساتھ اس کی پوری زندگی بندھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اس شخص کو جس کے لیے اس نے اپنی مرضی چھوڑ دی تھی۔ اپنے خواب چھوڑ دیے تھے۔ اپنی خوشیاں چھوڑ دیتھیں۔ آج وہی شخص اسے سب کے سامنے اپنی زندگی سے نکل جانے کا حکم دے رہا تھا۔ علمہ نے آہستہ سے پلکیں جھکا لیں۔ وہ شہناز بیگم کے سامنے جاکر کھڑی ہوگئی۔ “معاف کر دیں آنٹی۔” اس کی آواز بہت مدھم تھی۔ شہناز بیگم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ علمہ نے اپنے ہاتھ جوڑ دیے۔ ” مجھ سے غلطی ہوگئی۔ آپ مجھے معاف کر دیں۔۔۔” اس لمحے جہانزیب کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کیفیت ابھری۔ غصہ جیسے اچانک کم ہو گیا تھا۔۔۔
علمہ کی جھکی ہوئی گردن دیکھ کر اس کے اندر کہیں کچھ ہلا تھا۔ وہ اپنی بیوی کو کمزور دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ اسے اپنی بات منوانا پسند تھا۔ علمہ کا یوں اس کے سامنے ٹوٹ جانا اسے ایک عجیب سی تھکن تھی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ کئی مرتبہ اسے اپنے آپ کو برف کی ٹکور کرنی پڑی نہیں تو اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ اس نے کئی مرتبہ کروٹ بدلی تھی۔۔۔ ہر بار درد کی ایک نئی لہر جسم میں دوڑ جاتی تھی۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی۔ شہناز بیگم پہلے ہی اس کےکمرے کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ ” یہ گھر تمہارے میکے کا گھر نہیں ہے علمہ۔ یہاں اپنی مرضی سے سونے کے اوقات مقرر نہیں ہوتے۔” علمہ نے تھکی ہوئی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔ ” آنٹی طبیعت بہت خراب تھی۔” ” طبیعت خراب تھی یا رات دیر تک اپنے شوہر کو مصروف رکھا تھا۔” یہ جملہ علمہ کے دل پر چابک بن کر لگا۔ وہ خاموش رہی۔ شہناز بیگم کا لہجہ مزید سخت ہو گیا۔ ” تمہیں اس گھر میں رہنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔ صرف جہانزیب کی بیوی بن جانے سے کوئی اس گھر کی ملکہ نہیں بن جاتا۔” علمہ نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔۔۔۔۔ اس کے اندر کئی دنوں سے جمع خاموشی آج بغاوت پر اتر آئی۔ ” میں نے کبھی خود کو اس گھر کی ملکہ نہیں سمجھا۔” شہناز بیگم چونک گئیں۔ علمہ کی آواز لرز رہی تھی۔
” میں نے ہمیشہ آپ کی عزت کی ہے۔ ہر بات برداشت کی ہے۔ ہر طعنہ خاموشی سے سنا ہے۔ ہر بار خود کوقصور وار سمجھا ہے آج بھی میں معافی مانگ رہی ہوں۔” اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مگر ہر بار صرف اس لیے جھکنا کہ سامنے والا طاقتور ہے یہ بھی انصاف نہیں ہے شہناز بیگم کا چہرہ سخت ہوگیا۔۔۔” تم مجھ سے زبان چلا رہی ہو۔۔۔” علمہ نے آنکھیں بند کر لیں اسی لمحے اسے اندازہ ہو گیا کہ اس نے کیا کہہ دیا ہے۔ شہناز بیگم نے فوراً جہانزیب کو آواز دی۔ جہانزیب چند لمحوں بعد کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے علمہ کو دیکھا۔ پھر اپنی ماں کو دیکھا۔ شہناز بیگم نے آنسو بھری آواز میں سب کچھ اپنے انداز میں بیان کر دیا۔
Story From The Novel
Jahanzaib’s thunderous voice echoed through the crowded room. “Apologize to my mother, or get out of my life.” Alma’s face flushed with humiliation as everyone fell silent. The previous night had left her exhausted, and she had barely been able to rest. When Shahnaz Begum taunted her for waking up late, Alma finally lost her patience and defended herself. Shahnaz immediately complained to Jahanzaib, who entered the room furious and ordered Alma to apologize. With everyone watching, Alma swallowed her pride, folded her hands, and quietly said, “I’m sorry, Auntie. Please forgive me.”
Her submission made Jahanzaib’s anger fade, though he remained troubled by what had happened.The next morning, Shahnaz Begum had already been waiting outside Alma’s room. She criticized her for sleeping late and made hurtful remarks about her marriage. Alma, already exhausted, tried to remain silent, but after enduring repeated insults, she finally spoke up. “I have always respected you. I have listened to every taunt and accepted the blame, and even today I am apologizing. But constantly bowing down simply because the other person is more powerful is not justice either.” Her words angered Shahnaz, who accused her of speaking disrespectfully. Realizing that she had crossed a line,
Alma lowered her eyes, but Shahnaz immediately called Jahanzaib and told him her version of the incident.Later that night, Jahanzaib woke up longing for Alma, but when he opened his eyes, she was gone. Confused, he noticed a letter she had left behind. In it, Alma expressed her heartbreak, telling him that he had chosen to please his mother at the cost of humiliating the woman who was carrying his child. She could no longer accept being treated as though her feelings meant nothing. “You chose your mother’s happiness over the mother of your child,” she wrote. “You may be my child’s father, but after what you did, you are no longer worthy of being called my husband.” By the time Jahanzaib finished reading the letter, the reality of his actions began to sink in, leaving him stunned by Alma’s decision to walk away.Download Novel By Clicking Download Button Below